About Us

شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس!آج کل صِرف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ھماری اکثریت کا رُجحان ہے ۔ علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔یعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہر مسلمان مرد (و عورت)پرفرض ہے (سنن ابن ماجہ ج۱ ص۱۴۶ حدیث۲۲۴ ) اِس حدیثِ پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے جو کچھ فرمایا: اس کا آسان لفظوں میں مختصراً خُلاصہ عرض کرنے کی کوشِش کرتا ہوں۔ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ سُنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کافِر یا گُمراہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد مسائلِ نَماز یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات (یعنی نماز توڑنے والی چیزیں) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی (یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے تو زکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار (وزمیندار) کھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَعَلٰی ھٰذَا الْقِیاس(یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے) ہرمسلمان عاقِل و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب(باطنی مسائل)یعنی فرائضِ قَلْبِیہ (باطنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر ، رِیاکاری، حَسَد وغیرہااور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ (ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ،ج۲۳، ص۶۲۴ ،۶۲۳)

امیرِ اہل سنت دامت براکاتہم العالیہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ میں صفحہ 5 پر فرماتے ہیں: (1)سب سے پہلے بنیادی عقائد کا سیکھنا فرض ہے۔ (2)مُہلکات یعنی ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں جیسا کے جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان وغیرہ کے بارے میں ضَروری معلومات حاصل کرنابھی فرض ہے ۔



Back to top